Friday , 1 March 2024

Qasidah Ibrahim (A.S), Story of Hazrat Ibrahim (A.S), Part-2, حضرت ابراہیمؑ, Hammad Hameed, IR

قصیدہ ابراہیم علیہ السلام (پارٹ 1-2) ان واقعات پر مبنی ہے:
حصّہ-1:
اللہ کی پہچان، بتوں کی نفی، بت توڑنا، نمرود سے مناظرہ، آگ میں ڈالے جانا اور نکالے جانا، مچھر سے نمرود کی موت
حصّہ-2:
بابل سے حران ہجرت، حران سے فلسطین ہجرت، گلہ بانی، فلسطین سے مصر ہجرت، سنان بن عیان فرعون کی دست درازی، حضرت ہاجرہ کا حضرت سارہ کی باندی بننا، حضرت ہاجرہ اور حضرت ابراہیمؑ کی شادی، حضرت اسماعیلؑ پیدائش، ہاجرہ اور اسماعیلؑ کی مکہ کی طرف ہجرت، پرندوں کا زندہ ہونا، بالوں کا سفید ہونا، فرشتوں کی آمد اور حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوش خبری، حضرت اسحاق کی پیدائش، ایڑی سے زم زم نکلا، شیطان کو کنکر مارنا، تعمیر کعبہ، منادی حج، ختنہ کا حکم
Qasidah Ibrahim (A.S) Part-1: https://youtu.be/KaDFLvnspNw
Qasidah Ibrahim (A.S) Part-2: https://youtu.be/fjj8gNFvefM
Qasidah Yousuf (A.S) : https://youtu.be/qKXtmeV6qBY
Qasidah Umar Farooq (R.A) : https://youtu.be/vDwlJDSc4OU
Presenting a tearful “QASIDAH IBRAHIM (A.S) Part-2” (story of Hazrat Ibrahim (A.S) in Urdu language with Urdu Subtitles, which is written by “MUSAAB SHAHEEN” and recited by “HAFIZ HAMMAD HAMEED” with his beautiful voice.

Qasidah Ibrahim (A.S) Part-1: https://youtu.be/KaDFLvnspNw
Qasidah Yousuf (A.S) : https://youtu.be/qKXtmeV6qBY
Qasidah Umar Farooq (R.A) : https://youtu.be/vDwlJDSc4OU

❱ Subscribe Our Channel : https://goo.gl/gP1Kdb
❱ Subscribe Our New Channel : http://bit.ly/2X7gqgg

Video Credits:
Title : Qasidah Ibrahim (A.S) Part-2
Vocalist: Hafiz Hammad Hameed
Lyrics : Musaab Shaheen
Audio : Fs Studio
Production & Label : Islamic Releases
Urdu Lyrics:
پیارے بچو سنو دین کیسے ملا
کیسے اللہ کے پیاروں نے ہے غم سہا
 
اہلِ بابل نے حضرت براہیمؑ پر
حق پہ چلنا کیا سخت کچھ اس قدر
 
حکمِ ربی سے ہجرت وہ کرنے لگے
اپنا کنبہ لیے وہ حران آگئے
 
پھر وہی سلسلہ حق کی تبلیغ کا
بت گری کے نگر میں دوبارہ بڑھا
 
آپ نے ان کو سمجھایا دینِ حنیف
پر دماغ ان کے لاغر تھے اور بس نحیف
 
پھر سے شیطاں کے حامی بدکنے لگے
اور نبی کو پریشان کرنے لگے
 
پھر سے حکم آیا ، ہجرت کی آئی گھڑی
اور فلسطین کی آپ نے راہ لی
 
لوط اور سارہ ہجرت میں تھے ساتھ ساتھ
اس مبارک جماعت پہ تھا رب کا ہاتھ
 
سرزمینِ فلسطین پر آپ کی
گلہ بانی میں بھی خوب برکت ہوئی
 
پھر وہاں اک برس تک نہ بارش ہوئی
جانے کیا مصلحت اس میں اللہ کی تھی
 
آیا حکمِ خدا، پھر سے ہجرت کرو
اور اس مرتبہ مصر کی راہ لو
 
تھا وہاں ایک حاکم بہت بدمعاش
خوب عیاش اور بس وہی بت تراش
 
اس کے درباریوں نے بتایا اسے
اہلِ بابل کا اک قافلہ پہنچا ہے
 
قافلے میں ہے عورت حسین اک جوان
بس یہ سننا تھا ، کہنے لگا یہ سنان
 
ایک قاصد کو بھیجو ابھی اس طرف
اور پوچھو کہ ہیں کون اہلِ شرف
 
لایا جائے ابھی ان کی خاتون کو
پھر مرے تخلیے میں اسے بھیج دو
 
جب نبیؑ کو ہوا قصہ معلوم سب
بولے تو ہی بچا میری عزت کو رب!
 
پھر کہا اپنی بیوی سے یہ آپ نے
اپنی عزت بچانے کے ہی واسطے
 
آپ کو اپنی ہمشیرہ کہنا پڑا
اب وہاں آپ بھی یہ دھیاں رکھیے گا
 
نیک دل، نیک خو، دونوں ہی پاک باز
رب سے کرنے لگے پھر وہ راز و نیاز
 
جوں ہی سارہ کی جانب وہ حاکم بڑھا
یک بہ یک جسم پر رعشہ طاری ہوا
 
اس کو سارہ کا رتبہ سمجھ آگیا
سر جھکائے وہ شرمندہ ہونے لگا
 
اپنی بیٹی کو باندی بنا کر تبھی
قافلے میں روانہ کیا آپ ہی
 
ہاجرہ ، اس کی بیٹی تھیں ، باندی بنیں
خوب سارہ کی خدمت وہ کرنے لگیں
 
اب تلک سارہ کا کوئی بچہ نہ تھا
سو انھوں نے براہیم سے یہ کہا
 
ہاجرہ سے کریں آپ شادی حضور
اور عطا رب کرے ایک بیٹا ضرور
 
ہاجرہ سے یوں شادی ہوئی آپ کی
نسل جس سے مبارک بہت چل پڑی
 
ہیں اسی نسل سے میرے پیارے نبی
یعنی حضرت محمدﷺ ، ہمارے نبیؐ
 
آزمائش یہاں پر بھی منظور تھی
آیا حکم خدا، ہجر کی اک گھڑی
 
دشتِ مکہ کی جانب وہ پھر سے بڑھے
ہاجرہ اور بیٹے کو لے کر چلے
 
اور تنہا انھیں چھوڑنا پڑ گیا
آپ نے حکم اللہ کا پورا کیا
 
اک عمل تھا کہ تھے آپ مہماں نواز
رب کے ہاں یوں ہوئے خوب ہی سرفراز
 
آئے اک روز مہمان کچھ باصفا
ان کے اعزاز میں دنبہ بھونا گیا
 
خوب صورت تھے اور کچھ بھی کھاتے نہ تھے
تب براہیمؑ تھوڑا سا گھبرا گئے
 
ان میں سے ایک بولا ، فرشتے ہیں ہم
لوط کی قوم سے ہو کے لوٹے ہیں ہم
 
ایک خوش خبری دینی ہے پیارے نبی
ہوگی اولاد اس عمر میں آپ کی
 
حضرتِ سارہ حیران ہونے لگیں
اس بڑھاپے میں کیسے ؟ وہ کہنے لگیں
 
رب کی قدرت میں ہے جس کو جب جو بھی دے
اور جب چاہے وہ جس سے جو چھین لے
 
یوں بڑھاپے میں حضرت براہیمؑ کے
ایک بیٹے ، وہ اسحاق ، پیدا ہوئے
 
یوں براہیمؑ کو یہ سعادت ملی
ان کی اولاد میں تھے بہت سے نبی
 
رب سے پوچھا براہیم نے ایک دن
کیسے اٹھیں گے پھر سے بھلا انس و جن
 
رب نے فرمایا پالو پرندوں کو ، چار
پھر کروں گا حقیت کو میں آشکار
 
زبح کرلو پرندوں کو اور یوں کروں
ان کے اعضا پہاڑوں پہ جاکر دھرو
 
حکم ربی سے پھر سارے زندہ ہوئے
اور پرندے یکایک ہی اڑنے لگے
 
لاڈلے تھے براہیمؑ اللہ کے
اس لیے رب نے خوب ان پہ احساں کیے
 
آپ معمار کعبہ بنے دوستو
اور کہا لوگوں سے اس کا حج تم کرو
 
ان کے بیٹے کی ایڑی سے زم زم ملا
ان پہ ہی پہلا حکم آیا تھا ختنہ کا
 
اور انھوں نے ہی ہمراہ اک بیٹے کے
کنکر اک بار شیطان کو مارے تھے
 
شکل ملتی تھی بیٹے کی اور باپ کی
اور ابھی تک تھی کالی بہت زلف بھی
 
لوگ غلطی حضرت براہیمؑ کے
بیٹے کو ہی براہیمؑ کہہ دیتے تھے
 
تب خدا نے کیے بال ان کے سفید
اور عیاں کردیے اپنی قدرت کے بھید
 
کتنے قصے ہیں حضرت براہیمؑ کے
جی تو کہتا ہے بس ان کو سنتا رہے
 
پر یہاں بات واضح ہے اک دوستو
رب کے بندوں پہ آتی ہے زِک دوستو
 
پر جو سہتا ہے خوش نودی سے مشکلیں
اس کی آساں ہیں مصعب سبھی منزلیں

About islamic@admin

Check Also

NEW EMOTIONAL KALAM | GUNAHON NAY RUSWA KIA | NO TO VALENTIN’S DAY | HAMMAD ANWAR | ISLAMIC RELEASES | NEW NAAT SHARIF 2024

NEW EMOTIONAL KALAM | GUNAHON NAY RUSWA KIA | NO TO VALENTIN’S DAY | HAMMAD …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.