Emotional Kalam – Beti Ki Wiladat – Birth of a Daughter 😢 – Hafiz Usaid Omer – Islamic Releases – New Naat Shairf 2024 | Nasheed Club | Beautiful Naat
Keep watching youtube.com/@IslamicReleases
Presenting an Emotional Nasheed (This is the story of a man from Arabia who buried his daughter alive) “BETI KI WILADAT” in Urdu language with Urdu Subtitles, which is recited by “HAFIZ USAID OMeR” with his beautiful voice.
Video Credits:
Title : Beti Ki Wiladat
Artist : Hafiz Usaid Omer
Video Produced & Label : Islamic Releases
Lyrics:
ایک واقعہ بتلاتا ہوں میں ملک عرب کا
وہ دور مدینے میں تھا پیغمبر رب کا
ایک ادمی دربار نبوت میں تھا حاضر
ایمان کی دولت ملی وہ پہلے تک کافر
اس شخص نے اقا سے کہا اے میرے اقا
جس وقت میں کافر تھا تب ایک جرم کیا تھا
جو میرا قبیلہ کہیں وہ مانتا تھا میں
بیٹی کی ولادت کو برا جانتا تھا میں
گھر میں میرے پیدا ہوئی ایک پھول سی بچی
پر میں نے اسے اپنی ہی بے عزتی سمجھی
نفرت تھی مجھے اس سے میں بیزار تھا اس سے
لیکن میری بیوی کو بہت پیار تھا اس سے
اس بچی نے عزت میری ہر سمت اچھالی
بیٹی کی ولادت پہ مجھے ملتی تھی گالی
باہوں میں جھلایا نہ تو کاندھے پہ بٹھایا
میں نے نہ کبھی بیٹی کو سینے سے لگایا
چاہت ہی نہیں تھی کوئی الفت ہی نہیں تھی
سینے میں میرے اس کی محبت ہی نہیں تھی
معصوم وہ کرتی تھی محبت کے اشارے
اور میں نے اسی کرب میں کچھ سال گزارے
میں سوچتا رہتا تھا اسے مار ہی ڈالوں
کھوئی ہوئی عزت کو پھر ایک بار میں پا لوں
ایک روز اسے لے کے نکل ایا میں گھر سے
وہ بچی بہت خوش تھی میرے ساتھ سفر سے
فرمائشیں کرتی رہی وہ سارے سفر میں
جاگی ہی محبت نہ مگر میرے جگر میں
صحرا میں چلا ایا میں بستی سے نکل کر
بچی بھی وہاں پہنچی میرے ساتھ ہی چل کر
سنسان جگہ دیکھ کے سرشار ہوا میں
اس بچی کی تدفین کو تیار ہوا میں
تب میں نے یہ سوچا کہ یہیں قبر بنا لوں
اور اج ہی اس بچی سے چھٹکارا میں پا لوں
پھر میں نے کیا ایک گڑھا کھود نہ جاری
اس وقت میرے ذہن پہ شیطان تھا طاری
گرمی تھی بہت چور ہوا جب میں تھکن سے
اس وقت پسینہ نکل ایا تھا بدن سے
معصوم سی بچی کو ترس اگیا مجھ پر
ہاتھوں ہی سے اس بچی نے سایہ کیا مجھ پر
دم لینے کو بیٹھا جو ذرا مجھ سے کمینہ
وہ پوچ رہی تھی میرے چہرے کا پسینہ
رہ رہ کے میرا ہاتھ بھٹاتی رہی وہ بھی
اور قبر کی مٹی کو ہٹاتی رہی وہ بھی
میرے نئے کپڑوں پہ لگی قبر کی مٹی
جو صاف کیے جاتی تھی وہ ننھی سی بچی
وہ پوچھتی جاتی تھی کہ بتلاؤ نہ بابا
کیا کھود رہے ہو مجھے سمجھاؤ نا بابا
میں چپ رہا اب اس کو میں بتلاتا بھی کیسے
وہ بوجھ تھی مجھ پر اسے سمجھا تھا بھی کیسے
تیار ہوئی قبر تو بچی کو اٹھایا
اور میں نے اسی قبر میں بچی کو بٹھایا
پہلے تو وہ خوش ہوتی رہی میرے عمل پر
اور خود پہ الٹتی رہی وہ مٹی اٹھا کر
پھر خوف سے رونے لگی چلانے لگی وہ
ہاتھ اپنے ہلانے لگی لہرانے لگی وہ
اے بابا میرے جان و جگر اپ پہ قرباں
بتلائیے کیوں اپ بھاری ہے میری جان
بس مجھ کو میرا جرم بتا دو میرے بابا
پھر شوق سے جو چاہو سزادوں میرے بابا
روتی رہی چلاتی رہی پھول سی بچی
جب تک بھی نظر اتی رہی پھول سی بچی
اس دن میری رگ رگ میں تھا شیطان سمایا
اس بچی پہ تھوڑا بھی مجھے رحم نہ ایا
زندہ ہی اسے قبر میں دفنا دیا میں نے
ایک جان پہ یہ کیسا ستم ڈا دیا میں نے
وہ ادمی روتا رہا یہ بات بتا کر
اس شخص کے رخسار بھی اشکوں ہوئےتر
ایک درد سے سرکار کی انکھیں ہوئی پر نم
دل تھام کے روتے رہے سرکار دو عالم
سرکار کو جو بات رولائے وہ غلط ہے
اللہ کا جو دیش دلائے وہ غلط ہے
سرکار کو مانا ہے تو سرکار کی مانو
ہر بات میرے سید ابرار کی مانو
Islamic Releases Educational, Motivational Islamic Content and Nasheeds